(۷۶۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنِی شَیْخٌ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ قَالَ : سَمِعْتُ طَاوُسًا وَأَنَا وَاقِفٌ عَلَی رَأْسِہِ یَسْأَلُ عَنْ بَیْعِ الصَّدَقَۃِ قَبْلَ أَنْ تُقْبَضَ فَقَالَ طَاوُسٌ : وَرَبِّ ہَذَا الْبَیْتِ لاَ یَحِلُّ بَیْعُہَا قَبْلَ أَنْ تُقْبَضُ ، وَلاَ بَعْدَ أَنْ تُقْبَضَ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : لأَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَمَرَ أَنْ تُؤْخَذَ مِنْ أَغْنِیَائِہِمْ فَتُرَدَّ عَلَی فُقَرَائِہِمْ فُقَرَائِ أَہْلِ السُّہْمَانِ فَتُرَدَّ بِعَیْنِہَا وَلاَ یُرَدُّ ثَمَنُہَا۔
قَالَ الشَّیْخُ وَالأَخْبَارُ الَّتِی وَرَدَتْ فِی فَرَائِضِ الصَّدَقَاتِ دَلِیلٌ فِی ہَذِہِ الْمَسْأَلَۃِ۔[ضعیف۔ أخرجہ الشافعی]
(٧٦٢٨) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ مجھے اہل مکہ کے ایک شیخ نے کہا : میں نے طاؤس کو کہتے ہوئے سنا جب کہ میں اس کے سر پر کھڑا تھا اور وہ زکوۃ کے قبضے میں آنے سے پہلے فروخت کرنے کے بارے میں پوچھ رہا تھا تو طاؤس نے کہا : مجھے اس گھر کے رب کی قسم ! اس کا فروخت کرنا روا نہیں اس سے پہلے کہ اسے قبضے میں لیا جائے اور نہ ہی قبضے میں آنے کے بعد۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں، یہ اس لیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے امیروں سے لے کر محتاجوں کو دے دیا جائے۔ حاجت مندوں اور فقراء کو اصل چیز دی جائے نہ کہ اس کی قیمت۔
شیخ فرماتے ہیں : وہ روایات جو صدقات کے فرض ہونے میں وارد ہوئیں اس مسئلے کی دلیل ہے۔