(۷۶۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِیدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیِّ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِذْ جَائَ رَجُلٌ بِمِثْلِ بَیْضَۃٍ مِنْ ذَہَبٍ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَصَبْتُ ہَذِہِ مِنْ مَعْدِنٍ فَخُذْہَا فَہِیَ صَدَقَۃٌ مَا أَمْلِکُ غَیْرَہَا فَأَعْرَضَ عَنْہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ، ثُمَّ أَتَاہُ مِنْ قِبَلِ رُکْنِہِ الأَیْمَنِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ فَأَعْرَضَ عَنْہُ ، ثُمَّ أَتَاہُ مِنْ رُکْنِہِ الأَیْسَرِ فَأَعْرَضَ عَنْہُ ، ثُمَّ أَتَاہُ مِنْ خَلْفِہِ فَأَخَذَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَحَذَفَہُ بِہَا فَلَوْ أَصَابَتْہُ لأَوْجَعَتْہُ أَوْ لَعَقَرَتْہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَأْتِی أَحَدُکُمْ بِمَا یَمْلِکُ فَیَقُولُ : ہَذِہِ صَدَقَۃٌ ، ثُمَّ یَقْعُدُ یَسْتَکِفُّ النَّاسَ۔ خَیْرُ الصَّدَقَۃِ مَا کَانَ عَنْ ظَہْرِ غِنًی))۔
وَہَذَا یَحْتَمِلُ أَنْ یَکُونَ إِنَّمَا امْتَنَعَ مِنْ أَخْذِ الْوَاجِبِ مِنْہَا لِکَوْنِہَا نَاقِصَۃً عَنِ النِّصَابِ وَیَحْتَمِلُ غَیْرَہُ وَقَدْ مَضَتِ الأَحَادِیثُ فِی نِصَابِ الذَّہَبِ وَالْوَرِقِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد]
(٧٦٤٣) جابر بن عبداللہ انصاری (رض) فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے کہ ایک آدمی انڈے کی مانند سونا لایا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! یہ میں نے معدن (کان) سے حاصل کیا ہے۔ یہ لے لیں یہ صدقہ ہے اس کے علاوہ میں کسی چیز کا مالک نہیں آپ نے اس سے منہ موڑ لیا، پھر وہ آپ کی دائیں جانب سے آیا اور اس نے ایسے ہی کہا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منہ موڑ لیا، پھر وہ بائیں جانب سے آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعراض کرلیا۔ پھر وہ پیچھے سے آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے لیا اور اسے دے مارا اگر اسے لگ جاتا تو اسے بہت تکلیف ہوتی یا اس کی کوئی ہڈی ٹوٹ جاتی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تمہارے پاس ایک ایسا شخص چیز لاتا ہے کہ وہی چیز اس کی مالیت ہے۔ پھر وہ کہتا ہے کہ یہ صدقہ ہے۔ پھر وہ بیٹھ جاتا ہے اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے، بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد آدمی مال دار ہو محتاج نہ ہو۔
اس سے یہ احتمال ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے واجب کے لینے سے منع کیا ہو نصاب سے کم ہونے کی وجہ سے اور دوسرا بھی احتمال ہے اور سونے چاندی کے نصاب والی احادیث گزر چکی ہیں۔