(۷۶۸۴) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِی الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَنْ جَرَتْ عَلَیْہِ نَفَقَتُکَ فَأَطْعِمْ عَنْہُ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ۔ وَہَذَا مَوْقُوفٌ۔
وَعَبْدُ الأَعْلَی غَیْرُ قَوِیٍّ إِلاَّ أَنَّہُ إِذَا انْضَمَّ إِلَی مَا قَبْلَہُ قَوِیَا فِیمَا اجْتَمَعَا فِیہِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی]
(٧٦٨٤) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : جن کا نان ونفقہ تیرے ذمے ہے ان کی طرف سے آدھا صاع گندم یا ایک صاع کھجور سے ادا کرو۔ عبد الاعلیٰ غیر قوی ہے مگر اس سے پہلے قوی تھے۔
سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) کے دو مکاتب غلام تھے ، مگر وہ ان کی طرف سے صدقہ فطر نہیں دیتے تھے۔