(۷۶۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَیْہِ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ یَعْنِی ابْنَ طَہْمَانَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ کَانَ یُؤَدِّی زَکَاۃَ الْفِطْرِ عَنْ کُلِّ مَمْلُوکٍ لَہُ فِی أَرْضِہِ وَغَیْرِ أَرْضِہِ، وَعَنْ کُلِّ إِنْسَانٍ یَعُولُہُ مِنْ صَغِیرٍ أَوْ کَبِیرٍ ، وَعَنْ رَقِیقِ امْرَأَتِہِ ، وَکَانَ لَہُ مُکَاتَبٌ بِالْمَدِینَۃِ فَکَانَ لاَ یُؤَدِّی عَنْہُ۔
وَرَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ : کَانَ لاِبْنِ عُمَرَ مُکَاتَبَانِ فَلاَ یُعْطِی عَنْہُمَا الزَّکَاۃَ یَوْمَ الْفِطْرِ۔ [صحیح۔ معنی تخریجہ]
(٧٦٨٦) حضرت نافع عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ صدقہ فطر ادا کیا کرتے تھے ہر غلام کی طرف سے جو ان کی زمین میں ہوتا یا زمین کے علاوہ میں اور ہر انسان کی طرف سے جس کو وہ کھلاتے تھے وہ چھوٹا ہوتا یا بڑا اور اپنی بیوی کے غلاموں کی طرف سے بھی ۔ لیکن مدینہ میں ان کے کچھ مکاتب تھے ان کی طرف سے نہیں دیتے تھے۔
سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) کے دو مکاتب غلام تھے مگر وہ ان کی طرف سے صدقہ فطر نہیں دیتے تھے۔