(۷۶۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مِہْرَانَ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلاَنِیُّ وَکَانَ شَیْخَ صِدْقٍ وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ یُحَدِّثُ عَنْہُ حَدَّثَنَا سَیَّارُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّدَفِیُّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : فَرَضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- زَکَاۃَ الْفِطْرِ طُہْرَۃً لِلصِّیَامِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ ، وَطُعْمَۃً لِلْمَسَاکِینِ ، مَنْ أَدَّاہَا قَبْلَ الصَّلاَۃِ فَہِیَ زَکَاۃٌ مَقْبُولَۃٌ ، وَمَنْ أَدَّاہَا بَعْدَ الصَّلاَۃِ فَہِیَ صَدَقَۃٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ۔ کَذَا قَالَ شَیْخُنَا۔ [حسن۔ أخرجہ ابو داؤد]
(٧٦٩٢) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ فطر روزوں کی لغو و رفث سے طہارت کے لیے فرض کیا اور مساکین کو کھلانے کے لیے ۔ جس نے عید سے پہلے ادا کیا وہ مقبول ہے اور جس نے نماز کے بعد ادا کی یہ اس کا عام صدقہ ہے۔