(۷۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ شَاذَانَ بِبَغْدَادَ مِنْ أَصْلِہِ أَخْبَرَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ عَنْ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ الأَیْلِیِّ عَنِ الزُّہْرِیِّ : أَنَّ رِجَالاً مِنَ الأَنْصَارِ فِیہِمْ أَبُو أَیُّوبَ وَأَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ کَانُوا یُفْتُونَ الْمَائُ مِنَ الْمَائِ وَأَنَّہُ لَیْسَ عَلَی مَنْ أَتَی امْرَأَتَہُ فَلَمْ یُنْزِلُ غُسْلٌ۔ فَلَمَّا ذُکِرَ ذَلِکَ لِعُمَرَ وَابْنِ عُمَرَ وَعَائِشَۃَ أَنْکَرُوا ذَلِکَ وَقَالُوا : إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔
فَقَالَ سَہْلُ بْنُ سَعْدٍ وَکَانَ قَدْ أَدْرَکَ النَّبِیَّ -ﷺ- فِی زَمَانِہِ وَہُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً حَدَّثَنِی أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ : أَنَّ الْفُتْیَا الَّتِی کَانَتْ الْمَائُ مِنَ الْمَائِ رُخْصَۃٌ أَرْخَصَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فی أَوَّلِ الإِسْلاَمِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْغُسْلِ۔ [صحیح لغیرہٖ]
(٧٧٤) امام زہری سے روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگ جن میں ابو ایوب اور ابو سعید خدری (رض) بھی شامل ہیں ، یہ فتوی دیتے تھے کہ پانی پانی سے ہے اور جو آدمی اپنی بیوی کے پاس آئے اور انزال نہ ہو تو اس پر غسل نہیں ہے، جب یہ بات سیدنا عمر ابن عمر (رض) اور سیدہ عائشہ (رض) سے ذکر کی گئی تو انھوں نے اس کا انکار کردیا اور فرمایا : جب شرمگاہ شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔
ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں کہ ” پانی پانی سے ہے “ کے فتویٰ کی ابتدائے اسلام میں رخصت تھی اور یہ رخصت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دی تھی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل کرنے کا حکم دے دیا۔