(۷۷۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الطِّیبِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ: بِشْرُ بْنُ مُوسَی الأَسَدِیُّ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنِی زِیَادُ بْنُ نُعَیْمٍ الْحَضْرَمِیُّ قَالَ: سَمِعْتُ زِیَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِیَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یُحَدِّثُ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ : ثُمَّ أَتَاہُ آخَرُ فَقَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَعْطِنِی فَقَالَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ سَأَلَ النَّاسَ عَنْ ظَہْرِ غِنًی فَصُدَاعٌ فِی الرَّأْسِ وَدَاء ٌ فِی الْبَطْنِ))۔ فَقَالَ السَّائِلُ : فَأَعْطِنِی مِنَ الصَّدَقَۃِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ یَرْضَ فِیہَا بِحُکْمِ نَبِیٍّ وَلاَ غَیْرِہِ فِی الصَّدَقَاتِ حَتی حَکَمَ ہُوَ فِیہَا فَجَزَّأَہَا ثَمَانِیَۃَ أَجْزَائٍ فَإِنْ کُنْتَ مِنْ تِلْکَ الأَجْزَائِ أَعْطَیْتُکَ أَوْ أَعْطَیْنَاکَ حَقَّکَ))۔[ضعیف۔ أخرجہ الطبرانی]
(٧٧٣٣) زیاد بن حارثصدائی (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا ، پھر انھوں نے تمام حدیث بیان کی پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا : اے اللہ کے نبی ! مجھے کچھ دو تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے مال دار ہونے کے باوجود لوگوں سے سوال کیا اس کے سر میں درد اور پیٹ میں بیماری ہوگی۔ سائل نے پھر کہا : مجھے صدقہ دیجیے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کہا ا : للہ تعالیٰ صدقات میں نبی یا اس کے علاوہ کسی کی مرضی پر خوش نہیں ہوتا حتیٰ کہ اس نے اس میں جو حکم دیا اس کے آٹھ حصے مقرر کیے۔ اگر تو ان میں سے ہے تو میں تجھے دیتا ہوں یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم تجھے تیرا حق عطا کردیں گے۔