(۷۷۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَعْبٍ مَوْلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ : أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ لَبِیدٍ الأَنْصَارِیَّ سَأَلَ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنِ الرَّجُلِ یُصِیبُ أَہْلَہُ ثُمَّ یُکْسِلُ فَلاَ یُنْزِلُ ، فَقَالَ زَیْدٌ : یَغْتَسِلُ۔ فَقَالَ لَہُ مَحْمُودُ بْنُ لَبِیدٍ : إِنَّ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ کَانَ لاَ یَرَی الْغُسْلَ۔ فَقَالَ لَہُ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ : إِنَّ أُبَیًّا نَزَعَ عَنْ ذَلِکَ قَبْلَ أَنْ یَمُوتَ۔
قَوْلُ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ الْمَائُ مِنَ الْمَائِ ثُمَّ نُزُوعُہُ عَنْہُ یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ أُثْبِتَ لَہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ بَعْدُ مَا نَسَخَہُ ، وَکَذَلِکَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَعَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَغَیْرُہُمَا۔
[صحیح أخرجہ مالک[۵/۱]
(٧٧٨) محمود بن بعید انصاری نے زید بن ثابت (رض) سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جو اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے پھر ڈھیلا ہوجاتا ہے لیکن انزال نہیں ہوتا ۔ سیدنا زید (رض) نے فرمایا : غسل کرے گا تو ان سے محمود بن لبید نے کہا کہ سیدنا ابی بن کعب (رض) تو غسل کا نہیں کہتے تھے تو اس کو سیدنا زید بن ثابت (رض) نے کہا : ابی بن کعب (رض) نے مرنے سے پہلے اس فتوی سے رجوع کرلیا تھا۔
(ب) سیدنا ابی بن کعب کا قول ” پانی پانی “ سے ہے، پھر اس کو ترک کرنا اس پر دلالت ہے کہ یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت تھی، پھر اس کے بعد دوسرے فرمان نے اس کو منسوخ کردیا۔ یہی قول سیدنا عثمان بن عفان اور علی بن ابو طالب (رض) کا ہے۔