hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 7788

.

سنن البيهقي

7788
Sunan Al Bayhaqi
(۷۷۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ یَعْنِی ابْنَ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ ، وَلاَغَنَمٍ ، وَلاَ بَقَرٍ لاَ یُؤَدِّی حَقَّہَا إِلاَّ أُقْعِدَ لَہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَطَأُہُ ذَاتُ الظِّلْفَۃِ بِظِلْفِہَا ، وَتَنْطِحُہُ ذَاتُ الْقَرْنِ بِقَرْنِہَا لَیْسَ یَوْمَئِذٍ فِیہَا جَمَّاء ٌ ، وَلاَ مَکْسُورَۃُ الْقَرْنِ ۔ قُلْنَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَمَا حَقُّہَا؟ قَالَ : ((إِطْرَاقُ فَحْلِہَا ، وَإِعَارَۃُ دَلْوِہَا ، وَمَنِیحَتُہَا ، وَحَلَبُہَا عَلَی الْمَائِ ، وَحَمْلٌ عَلَیْہَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ ، وَلاَ مِنْ صَاحِبِ مَالٍ لاَ یُؤَدِّی زَکَاتَہُ إِلاَّ تَحَوَّلَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُجَاعًا أَقْرَعَ یَتْبَعُ صَاحِبَہُ حَیْثُمَا ذَہَبَ وَہُوَ یَفِرُّ مِنْہُ وَیُقَالُ : ہَذَا مَالُکَ الَّذِی کُنْتَ تَبْخَلُ بِہِ ، فَإِذَا رَأَی أَنَّہُ لاَ بُدَّ لَہُ مِنْہُ أَدْخَلَ یَدَہُ فِی فِیہِ فَجَعَلَ یَقْضَمُہَا کَمَا یَقْضَمُ الْفَحْلُ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ۔ وَرَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ بِمَعْنَاہُ قَالَ أَبُو الزُّبَیْرِ وَسَمِعْتُ عُبَیْدَ بْنَ عُمَیْرٍ یَقُولُ ہَذَا الْقَوْلُ ، ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : مِثْلَ قَوْلِ عُبَیْدٍ وَقَالَ أَبُو الزُّبَیْرِ سَمِعْتُ عُبَیْدَ بْنَ عُمَیْرٍ یَقُولُ قَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا حَقُّ الإِبِلِ؟ قَالَ : ((حَلَبُہَا عَلَی الْمَائِ ، وَإِعَارَۃُ دَلْوِہَا ، وَإِعَارَۃُ فَحْلِہَا ، وَمَنِیحَتُہَا ، وَحَمْلٌ عَلَیْہَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ))۔ [صحیح۔ مسلم]
٧٧٨٥۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ہے کوئی اونٹوں والا اور نہ بکریوں والا اور نہ گائے والا جو ان کا حق ادا نہیں کرتا مگر اسے قیامت کے دن ایک میدان میں بٹھایا جائے گا۔ پھر اسے کھروں والے اپنے کھروں سے روندیں گے اور سینگوں والے اپنے سینگوں سے ماریں گے ۔ اس دن کوئی جانور گنجا نہیں ہوگا اور نہ ہی ٹوٹے سینگوں والا ۔ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کان کا کیا حق ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے سانڈ کو اس پر چھوڑنا ، اس کا دود ھ عاریت پر دینا اور اسے دوھنا اور اللہ کی راہ میں اس پر سوار ہونا اور آدمی اس کی زکوۃ ادا نہیں کرتا تو اسے قیامت کے دن بڑے ازدھا میں تبدیل کردیا جائے گا جو اپنے مال دارمالک کا پیچھا کرے گا وہ جہاں بھی چلا جائے اور وہ اس سے بھاگے گا اور اسے کہا جائے گا : تیرا مال یہ ہیجس کی وجہ سے تو بخل کیا کرتا تھا۔ جب وہ دیکھے گا کہ اس سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں تب اپنے ہاتھ کو منہ میں ڈالے گا تو وہ اسے نگلنا شروع کردے گا جیسے جانور چباتا ہے۔
ابو زبیر فرماتے ہیں کہ میں نے عبید بن عمیر (رض) سے سنا کہ ایک آدمی نے کہا : اونٹ کا کیا حق ہے تو آپ نے فرمایا : اس کا پانی پر دوہنا اس کا دودھ عاریت پر دینا اور اس کے سانڈ کو عاریت پر دینا اور اس کو کو اللہ کی راہ میں اس پر سواری کرنا۔