(۷۸۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکَرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَّارٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ حَیَّۃَ عَنْ سَعْدٍ قَالَ: لَمَّا بَایَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- النِّسَائَ قَامَتِ امْرَأَۃٌ جَلِیلَۃٌ کَأَنَّہَا مِنْ نِسَائِ مُضَرَ فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا کَلٌّ عَلَی آبَائِنَا وَأَبْنَائِنَا۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَأُرَی فِیہِ : وَأَزْوَاجِنَا وَفِی رِوَایَۃِ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَلَی أَبْنَائِنَا وَأَزْوَاجِنَا فَمَا یَحِلُّ لَنَا مِنْ أَمْوَالِہِمْ؟ قَالَ : الطَّعَامُ الرَّطْبُ تَأْکُلْنَہُ وَتُہْدِینَہُ ۔ لَیْسَ فِی حَدِیثِ ابْنِ سَوَّارٍ الطَّعَامُ تَابَعَہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
(٧٨٥١) حضرت سعد (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف عورتوں سے بیعت لی تو ایک بڑی عورت کھڑی ہوگئی گویا وہ مضر قبیلے سے تھی تو وہ کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ! کہ ہم ساری کی ساری اپنے بیٹوں اور والدوں پر ہیں۔ ابوداؤدکہتے ہیں : میر اخیال ہے کہ خاوندوں پر بھی کہا، یعنی ہمارے لیے ان کے اموال میں سے کچھ جائز نہیں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تازہ کھانا کھاؤ اور ہدیہ دو ۔