(۷۹۲۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ حِکَایَۃً عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ قَالَ : أَحَدُکُمْ بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَأْکُلْ أَوْ یَشْرَبْ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : ہُمْ یَعْنِی الْعِرَاقِیِّینَ لاَ یَرَوْنَ ہَذَا یَزْعُمُونَ أَنَّہُ لاَ یَکُونُ صَائِمًا حَتَّی یَنْوِیَ الصَّوْمَ قَبْلَ زَوَالِ الشَّمْسِ وَأَمَّا نَحْنُ فَنَقُولُ الْمُتَطَوِّعُ بِالصَّوْمِ مَتَی شَائَ نَوَیَ الصِّیَامَ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الشافعی]
(٧٩٢١) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جب تک آدمی کچھ کھاتا یا پیتا نہیں تو اسے اختیار ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ یعنی عراقی ایسے خیال نہیں کرتے بلکہ وہ فرماتے ہیں : جب تک وہ زوال شمس سے پہلے روزے کی نیت نہیں کرتا تو اس کا روزہ نہیں ہوگا ۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ نفلی روزے میں جب چاہے نیت کرے۔