hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 7926

.

سنن البيهقي

7926
Sunan Al Bayhaqi
(۷۹۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ ہُوَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ عَنْ أَیُّوبَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّمَا الشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ، فَلاَ تَصُومُوا حَتَّی تَرَوْہُ ، وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّی تَرَوْہُ فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاقْدُرُوا لَہُ ۔ زَادَ حَمَّادٌ فِی رِوَایَتِہِ عَنْ أَیُّوبَ قَالَ نَافِعٌ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا مَضَی مِنْ شَعْبَانَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ نُظِرَ لَہُ فَإِنْ رُئِیَ فَذَاکَ ، وَإِنْ لَمْ یُرَ وَلَمْ یَحُلْ دُونَ مَنْظَرِہِ سَحَابٌ وَلاَ قَتَرَۃٌ أَصْبَحَ مُفْطِرًا ، وَإِنْ حَالَ دُونَ مَنْظَرِہِ سَحَابٌ أَوْ قَتَرَۃٌ أَصْبَحَ صَائِمًا ، وَکَانَ یُفْطِرُ مَعَ النَّاسِ وَلاَ یَأْخُذُ بِہَذَا الْحِسَابِ)) قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ : ذَکَرْتُ فِعْلَ ابْنِ عُمَرَ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ فَلَمْ یُعْجِبْہُ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ ابْنِ عُلَیَّۃَ دُونَ فِعْلِ ابْنِ عُمَرَ۔
(٧٩٢٣) حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک مہینہ انتیس دنوں کا ہوتا ہے۔ سو تم روزہ نہ رکھو جب تک چاند کو نہ دیکھ لو اور نہ ہی افطار کرو حتیٰ کہ چاندنہ دیکھ لو۔ اگر تم پر بادل چھاجائیں تو پھر اندازہ لگالو۔
نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) کے لیے چاند دیکھا جاتا، جب شعبان کے انتیس دن گزر جاتے۔ اگر نظر آجاتا تو روزہ رکھ لیتے ۔ اگر نہ نظر آتا تو اور اس کے دیکھنے میں حائل نہ ہوتے۔ پھر وہ افطاری کی حالت میں ہوتے ۔ اگر چاند دیکھتے وقت بادل وغیرہ حائل ہوتے تو صبح روزے کی حالت میں کرتے اور لوگوں کے ساتھ ہی افطار کرتے اور کوئی حساب نہ لگاتے۔
ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن عمیر کے سامنے ابن عمر (رض) کے فعل کا تذکرہ کیا تو انھوں نے کچھ تعجب نہ کیا ، مگر ابن علیہ نے ابن عمر کے فعل کے خلاف بیان کیا ہے۔