(۷۹۷۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ فَنْجُوَیْہِ الدِّینَوَرِیُّ بِالدَّامَغَانِ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَنَبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ یَعْنِی الْحَضْرَمِیَّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ ضُرَیْسٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَائَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا کَانَتْ تَصُومُ الْیَوْمَ الَّذِی یُشَکُّ فِیہِ مِنْ رَمَضَانَ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أَبِی مَرْیَمَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : لأَنْ أَصُومَ الْیَوْمَ الَّذِی یُشَکُّ فِیہِ مِنْ شَعْبَانَ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أُفْطِرَ یَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ۔
کَذَا رُوِیَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ بِہَذَا الإِسْنَادِ وَرِوَایَۃُ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی النَّہْیِ عَنِ التَّقَدُّمِ إِلاَّ أَنْ یُوَافِقَ صَوْمًا کَانَ یَصُومُہُ أَصَحُّ مِنْ ذَلِکَ۔
وَأَمَّا الَّذِی رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ذَلِکَ فَإِنَّمَا قَالَہُ عِنْدَ شَہَادَۃِ رَجُلٍ عَلَی رُؤْیَۃِ الْہِلاَلِ ، وَذَلِکَ یَرِدُ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔
وَأَمَّا مُذْہِبُ ابْنِ عُمَرَ فِی ذَلِکَ فَقَدْ ذَکَرْنَاہُ فِیمَا مَضَی ،
وَرِوَایَۃُ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ تَدُلُّ عَلَی أَنَّ مَذْہَبَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی ذَلِکَ کَمَذْہَبِ ابْنِ عُمَرَ فِی الصَّوْمِ۔ إِذَا غُمَّ الشَّہْرُ دُونَ أَنْ یَکُونَ صَحْوًا وَمُتَابَعَۃُ السُّنَّۃِ الثَّابِتَۃِ وَمَا عَلَیْہِ أَکْثَرُ الصَّحَابَۃِ وَعَوَامُّ أَہْلِ الْعِلْمِ أَوْلَی بِنَا وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔
(٧٩٧٢) فاطمہ بنت منذر اسماء سے نقل فرماتی ہیں کہ وہ رمضان میں شک کے دن کا روزہ رکھا کرتی تھیں ۔
ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ شعبان کے مہینے میں شک کا روزہ رکھوں یہ میرے نزدیک زیادہ محبوب ہے رمضان کا ایک روزہ چھوڑدوں۔ اس لیے کہ اس سے مراد ایامِ ابیض کے روزے ہیں۔ لیکن جو علی (رض) سے منقول ہے تو انھوں نے یہ بات آدمی کے چاند دیکھنے کی گواہی پر کہی ہے اور یزید بن ہارون کی روایت سیدہ عائشہ (رض) کے مذہب کے بارے میں ہے۔ جو ابن عمر (رض) کا روزے میں مذہب ہیجب بادل چھاجائیں مطلع صاف نہ ہو تو یہ سنت ثابتہ کی اتباع ہے جس پر اکثر صحابہ اور عوام ہیں اور اہل علم بھی۔