hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 8044

.

سنن البيهقي

8044
Sunan Al Bayhaqi
(۸۰۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الإِسْفَرَائِنِیُّ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُوالرَّبِیعِ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّہْرِیِّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّ الأَخِرَ وَقَعَ عَلَی امْرَأَتِہِ فِی رَمَضَانَ فَقَالَ لَہُ: ((أَتَجِدُ ما تُحَرِّرُ رَقَبَۃً؟))۔ قَالَ : لاَ قَالَ : ((فَہَلْ تَسْتَطِیعُ أَنْ تَصُومَ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ؟))۔ قَالَ: لاَ قَالَ: ((فَتَجِدُ مَا تُطْعِمُ سِتِّینَ مِسْکِینًا؟))۔ قَالَ: لاَ قَالَ فَأُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِعَرَقٍ فِیہِ تَمْرٌ وَہُوَ الزِّنْبِیلُ فَقَالَ : ((أَطْعِمْ ہَذَا عَنْکَ))۔ فَقَالَ : مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا أَہْلُ بَیْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا قَالَ : ((أَطْعِمْہُ أَہْلَکَ))۔ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ إِنَّمَا کَانَت رُخْصَۃً لِہَذَا فَمَنْ أَصَابَ مِثْلَ مَا أَصَابَ فَلْیَصْنَعْ مَا أُمِرَ بِہِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ جَرِیرٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
(٨٠٤١) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا : ایک آدمی نے اپنی بیوی سے رمضان میں صحبت کرلی ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کہا : کیا تو پاتا ہے جس کے ساتھ غلام آزاد کردے ؟ اس نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو دو مہینے کے متواتر روزے رکھ سکتا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو پاتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجورں کا ایک ٹوکرا لایا گیا اور وہ بڑا ٹوکرا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اپنی طرف سے کھلادے تو اس نے کہا : ان دونوں پہاڑوں میں کوئی گھر ہم سے زیادہ محتاج نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر اپنے اہل کو ہی کھلادے۔
محمد بن مسلم فرماتے ہیں : یہ رخصت اسی کے لیے تھی۔ جس کے ساتھ ایسا حادثہ پیش آئے تو وہ اس طرح کرلے جس طرح حکم ہے۔