hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 8060

.

سنن البيهقي

8060
Sunan Al Bayhaqi
(۸۰۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ یَنْتِفُ شَعَرَ رَأْسِہِ وَیَدُقُّ صَدْرَہُ وَیَقُولُ : ہَلَکَ الأَبْعَدُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((ہَلاَکًا مَاذَا؟))۔ قَالَ: إِنِّی وَقَعْتُ عَلَی أَہْلِی الْیَوْمَ وَذَلِکَ فِی رَمَضَانَ قَالَ: ((ہَلْ عِنْدِکَ رَقَبَۃٌ تُعْتِقُہَا؟))۔ قَالَ: لاَ۔ فَقَالَ: ((فَہَلْ تَسْتَطِیعُ صِیَامَ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ؟))۔ قَالَ: لاَ۔ قَالَ: ((فَہَلْ تَسْتَطِیعُ إِطْعَامَ سِتِّینَ مِسْکِینًا؟))۔ قَالَ: لاَ، ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ فَجَائَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ بِعَرَقٍ عَظِیمٍ فِیہِ صَدَقَۃُ مَالِہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَیْنَ السَّائِلُ؟))۔ قَالُوا: قَدِ انْصَرَفَ قَالَ: عَلَیَّ بِہِ۔ فَجَائَ ہُ الرَّجُلُ فَقَالَ: ((خُذْ ہَذَا فَتَصَدَّقْ بِہِ کَفَّارَۃً لِمَا صَنَعْتَ))۔ قَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَعَلَی أَحْوَجَ مِنِّی وَأَہْلِ بَیْتِی وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا أَحْوَجُ مِنِّی وَمِنْ أَہْلِ بَیْتِی قَالَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ قَالَ : ((فَکُلْ وَأَطْعِمْ أَہْلَ بَیْتِکَ وَاقْضِ یَوْمًا مَکَانَہُ))۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ دارقطنی]
(٨٠٥٧) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا جو بال نوچ رہا تھا اور سینہ پیٹ رہا تھا کہ بندہ ہلاک ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہلاکت کس وجہ سے ؟ اس نے کہا : آج میں اپنی بیوی سے صحبت کر بیٹھا اور یہ رمضان ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تیرے پاس غلام ہے کہ تو اسے آزاد کرے ؟ اس نے کہا : نہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو دو مہینے کے متواتر روزے رکھ سکتا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاسکتا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں ۔ پھر وہ آدمی پلٹ گیا تو لوگوں میں سے ایک اپنے مال کا صدقہ لے کر کھجوروں کا بڑا ٹوکرا لے کر آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سائل کہاں ہے ؟ انھوں نے کہا : وہ پھر گیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے میرے پاس لاؤ۔ ایک آدمی اسے لایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ لے لو اور صدقہ کردو جو تو نے کیا اس کا کفارہ ہوجائے گا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا مجھ سے زیادہ محتاج پر ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے دونوں پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں اور میرے گھر والوں سے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دیے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھیں نظر آگئیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لے لو اور اپنے اہل کو کھلادو اور اس کی ایک دن کی قضاکرو۔