(۸۰۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَعَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَیْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِذْ جَائَ ہُ رَجُلٌ یَنْتِفُ شَعَرَہُ وَیَدْعُو وَیْلَہُ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((وَیْحَکَ مَا لَکَ؟))۔ قَالَ : إِنَّ الأَخِرَ وَقَعَ عَلَی امْرَأَتِہِ فِی رَمَضَانَ فَقَالَ لَہُ : ((أَعْتِقْ رَقَبَۃً))۔ قَالَ : لاَ أَجِدُہَا قَالَ : ((فَصُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ))۔ قَالَ : لاَ أَسْتَطِیعُ قَالَ : ((فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا))۔ قَالَ : لاَ أَجِدُ قَالَ فَأُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِعَرَقٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ : ((خُذْ ہَذَا فَأَطْعِمْہُ سِتِّینَ مِسْکِینًا))۔ قَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا أَہْلُ بَیْتٍ أَفْقَرُ إِلَیْہِ مِنَّا۔ قَالَ : ((کُلْ أَنْتَ وَعِیَالُکَ))۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ احمد]
(٨٠٥٩) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے، ایک آدمی اپنے بال نوچتا ہوا اور ویل بکتا ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھ پر افسوس تجھے کیا ہوا ؟ اس نے کہا : میں وہ رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غلام آزاد کر دے۔ اس نے کہا : میں نہیں پاتا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر دو مہینے متواتر روزے رکھ، اس نے کہا : میں اس کی طاقت نہیں رکھتا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔ اس نے کہا : میں نہیں پاتا ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک ٹوکرا کھجور کا لایا گیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ لے اور ساٹھ مسکینوں کو کھلادے۔ اس نے کہا : یا نبی اللہ ! ان دونوں پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تو اور تیرا عیال کھاؤ۔