(۸۰۶۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہَ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَحْمَدَ الصَّفَّارُ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الزُّبَیْرِیُّ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ : أَنَّ رَجُلاً جَائَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَاقَعَ أَہْلَہُ فِی رَمَضَانَ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((أَعْتِقْ رَقَبَۃً))۔ قَالَ : لاَ أَجِدُ قَالَ : ((صُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ))۔ قَالَ : لاَ أَقْدِرُ عَلَیْہِ قَالَ : ((أَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا))۔ قَالَ : لاَ أَجِدُ قَالَ فَأُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِعَرَقٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا فَقَالَ : ((خُذْ ہَذَا فَتَصَدَّقْ بِہِ))۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا أَجِدُ أَحْوَجَ إِلَی ہَذَا مِنِّی وَمِنْ أَہْلِ بَیْتِی فَقَالَ : ((کُلْہُ أَنْتَ وَأَہْلُ بَیْتِکَ وَصُمْ یَوْمًا مَکَانَہُ وَاسْتَغْفِرِ اللَّہَ))۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ۔
وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً۔ [منکر الاسناد۔ دارقطنی]
(٨٠٦١) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیاجو رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہوگیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غلام آزاد کر اس نے کہا : میں نہیں پاتا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر دو مہینے متواتر روزے رکھ، اس نے کہا : میں اس کی قدرت نہیں رکھتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا اور اس نے کہا : میں نہیں پاتا ، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ لے لو اور صدقہ کر دو ۔ اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نہیں پاتاجو مجھ سے اور میرے گھر والوں سے زیادہ اس کا محتاج ہو تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو کھا اور تیرے گھر والے کھائیں، اس کے عوض ایک دن کا روزہ رکھ لینا اور استغفار کر۔