(۸۰۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبْغَدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا مَکِّیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَزْرَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : رُخِّصَ لِلشَّیْخِ الْکَبِیرِ وَالْعَجُوزِ الْکَبِیرَۃِ فِی ذَلِکَ وَہُمَا یُطِیقَانِ الصَّوْمَ أَنْ یُفْطِرَا إِنْ شَائَ ا وَیُطْعِمَا مَکَانَ کُلِّ یَوْمٍ مِسْکِینًا ، ثُمَّ نُسِخَ ذَلِکَ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ {فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} وَثَبَتَ لِلشَّیْخِ الْکَبِیرِ وَالْعَجُوزِ الْکَبِیرَۃِ : إِذَا کَانَا لاَ یُطِیقَانِ الصَّوْمَ ، وَالْحَامِلُ وَالْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتَا أَفْطَرَتَا وَأَطْعَمَتَا مَکَانَ کُلِّ یَوْمٍ مِسْکِینًا۔ لَفْظُ حَدِیثِ مَکِّیٍّ وَفِی رِوَایَۃِ رَوْحٍ وَالْحُبْلَی وَالْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتَا وَالْبَاقِی سَوَائٌ۔[صحیح۔ اخرجہ ابن جارود]
(٨٠٧٧) سعید بن جبیر (رض) ابن عباس (رض) سے فرماتے ہیں کہ بوڑھے بزرگ ور بوڑھی عورت کو اس میں رخصت دی گئی ہے اگرچہ وہ دونوں روزے کی طاقت رکھتے ہوں، انھیں افطار کی رخصت ہے اگر وہ چاہیں تو ہر دن کے عوض مسکین کو کھلائیں۔ پھر یہ اجازت منسوخ کردی گئی۔ اس آیت سے { فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ }۔ پھر بوڑھے مرد اور عورت کے لیے اجازت رہ گئی، جب وہ روزے کی طاقت نہ رکھیں، حاملہ اور دودھ پلانے والی جب ڈر محسوس کریں تو افطار کرلیں اور ہر دن کے عوض مسکین کو کھلائیں۔ ایک روایت میں ہے حبلی کے الفاظ ہیں۔