(۸۰۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَۃِ الْحَامِلِ إِذَا خَافَتْ عَلَی وَلَدِہَا فَقَالَ : تُفْطِرُ وَتُطْعِمُ مَکَانَ کُلِّ یَوْمٍ مِسْکِینًا مُدًّا مِنْ حِنْطَۃٍ۔ زَادَ أَبُو سَعِیدٍ فِی حَدِیثِہِ قَالَ الشَّافِعِیُّ قَالَ مَالِکٌ : وَأَہْلُ الْعِلْمِ یَرَوْنَ عَلَیْہَا مَعَ ذَلِکَ الْقَضَائَ قَالَ مَالِکٌ : عَلَیْہَا الْقَضَائُ لأَنَّ اللَّہَ تَعَالَی یَقُولُ {فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیضًا أَوْ عَلَی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِنْ أَیَّامٍ أُخَرَ}
قَالَ الشَّیْخُ : وَقَدْ رَوَی أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ لَبِیبَۃَ أَوِ ابْنِ أَبِی لَبِیبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ أَنَّ امْرَأَۃً صَامَتْ حَامِلاً فَاسْتَعْطَشَتْ فِی رَمَضَانَ فَسُئِلَ عَنْہَا ابْنُ عُمَرَ فَأَمَرَہَا أَنْ تُفْطِرَ وَتُطْعِمَ کُلَّ یَوْمٍ مِسْکِینًا مُدًّا ، ثُمَّ لاَ یَجْزِیہَا فَإِذَا صَحَّتْ قَضَتْہُ۔
ذَکَرَہُ أَبُو عُبَیْدٍ فِی کِتَابِ النَّاسِخِ وَالْمَنْسُوخِ عَنِ ابْنِ أَبِی مَرْیَمَ عَنْ أَنَسِ بْنِ عِیَاضٍ ، وَہَذَا قَوْلُ مُجَاہِدٍ تُفْطِرُ وَتُطْعِمُ وَتَقْضِی۔
وَفِی رِوَایَۃِ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ تُفْطِرَانِ وَتَقْضِیَانِ ، وَفِی رِوَایَۃِ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ : الْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتْ أَفْطَرَتْ وَأَطْعَمَتْ ، وَالْحَامِلُ إِذَا خَافَتْ عَلَی نَفْسِہَا أَفْطَرَتْ وَقَضَتْ کَالْمَرِیضِ۔
[صحیح۔ اخرجہ مالک]
(٨٠٧٩) نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) سے حاملہ کے بارے میں پوچھا گیا کہ جب وہ اپنے بچے کے بارے میں ڈرے تو انھوں نے کہا : افطار کرے اور ہر دن کے عوض مسکین کو کھلادے اور حسن فرماتے ہیں کہ دودھ پلانے والی جب ڈرے گی تو افطار کرے گی اور مسکین کو کھلائے گی مگر حاملہ جب ڈرے گی تو افطار کرے گی اور قضاکرے گی مریضہ کی طرح۔
(امام شافعی اور مالک فرماتے ہیں کہ اور اہل علم بھی کہتے ہیں کہ اس پر قضا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیضًا أَوْ عَلَی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِنْ أَیَّامٍ أُخَرَ } شیخ فرماتے ہیں کہ انس بن عیاضی عبداللہ بن عمرو کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ایک عورت نے روزہ رکھا اور اسے پیاس لگی ، اس کے متعلق ابن عمر (رض) سے پوچھا گیا تو انھوں نے افطار کا حکم دیا اور ایک مسکین کو کھلانے کا۔