(۸۰۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبْغَدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَوَادَۃَ الْقُشَیْرِیُّ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَجُلٌ مِنْہُمْ قَالَ : أُصِیبَتْ إِبِلٌ لَہُ فَأَتَی الْمَدِینَۃَ فِی طَلَبِ إِبِلِہِ فَدَخَلَ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَوَافَقَہُ وَہُوَ یَتَغَدَّی فَقَالَ : ((ہَلُمَّ إِلَی الْغَدَائِ))۔ فَقَالَ : إِنِّی صَائِمٌ فَقَالَ : ((إِنَّ الصِّیَامَ وُضِعَ عَنِ الْمُسَافِرِ وَشَطْرَ الصَّلاَۃِ وَعَنِ الْحُبْلَی وَالْمُرْضِعِ))۔ [حسن]
(٨٠٨١) عبداللہ بن سوادہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انس بن مالک جو انھیں میں سے ایک تھے، فرماتے ہیں کہ ان کے اونٹ گم گئے اور وہ ان کی تلاش میں مدینہ آئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھانا کھا رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آؤ کھانا کھاؤ تو اس نے کہا : میں روزے دار ہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک روزہ مسافر ، حاملہ اور مریضہ پر معاف ہے اور نماز کی مسافر سے تخفیف کردی گئی ہے۔