(۸۱۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصٍ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الأَعْمَالُ بِالنِّیَّۃِ وَإِنَّمَا لاِمْرِئٍ مَا نَوَی ، فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ إِلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَی رَسُولِہِ فَہِجْرَتُہُ إِلَی اللَّہِ وَرَسُولِہِ ، وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ إِلَی دُنْیَا یُصِیبُہَا أَوِ امْرَأَۃٍ یَتَزَوَّجُہَا فَہِجْرَتُہُ إِلَی مَا ہَاجَرَ إِلَیْہِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ جَمِیعًا عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
( ٨١٠٨) سیدنا عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور یقیناً انسان کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے نیت کی ۔ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوگی اور جس نے دنیا کو حاصل کرنے کے لیے ہجرت کی اس کی ہجرت دنیا کی طرف ہے یا عورت کے لیے ہجرت کی کہ اس سے نکاح کرے تو اس کی ہجرت اس کی طرف ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۔