hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 8147

.

سنن البيهقي

8147
Sunan Al Bayhaqi
(۸۱۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عِمْرَانَ : مُوسَی بْنُ سَہْلٍ الْجَوْنِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ زُغْبَۃَ یَعْنِی عِیسَی بْنَ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَۃَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ أَبِی الْخَیْرِ عَنْ مَنْصُورٍ الْکَلْبِیِّ : أَنَّ دِحْیَۃَ بْنَ خَلِیفَۃَ خَرَجَ مِنْ قَرْیَتِہِ بِدِمَشْقَ إِلَی قَدْرِ قَرْیَۃِ عُقْبَۃَ مِنَ الْفُسْطَاطِ وَذَلِکَ ثَلاَثَۃُ أَمْیَالٍ فِی رَمَضَانَ ، ثُمَّ إِنَّہُ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ مَعَہُ أُنَاسٌ فَکَرِہَ ذَلِکَ آخَرُونَ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَی قَرْیَتِہِ قَالَ : وَاللَّہِ لَقَدْ رَأَیْتُ أَمْرًا مَا کُنْتُ أَظُنُّ أَنِّی أَرَاہُ إِنَّ قَوْمًا رَغِبُوا عَنْ ہَدْیِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَأَصْحَابِہِ یَقُولُ ذَلِکَ لِلَّذِینَ صَامُوا، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِکَ: اللَّہُمَّ اقْبِضْنِی إِلَیْکَ۔ قَالَ اللَّیْثُ: الأَمْرُ الَّذِی اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَیْہِ أَنْ لاَ یَقْصُرُوا الصَّلاَۃَ، وَلاَ یُفْطِرُوا إِلاَّ فِی مَسِیرَۃِ أَرْبَعَۃِ بُرُدٍ فِی کُلِّ بَرِیدٍ اثَنَا عَشَرَ مِیلاً۔ قَالَ الشَّیْخُ : قَدْ رُوِّینَا فِی کِتَابِ الصَّلاَۃِ مَا دَلَّ عَلَی ہَذَا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ وَالَّذِی رُوِّینَا عَنْ دِحْیَۃَ الْکَلْبِیِّ إِنْ صَحَّ ذَلِکَ فَکَأَنَّہُ ذَہَبَ فِیہِ إِلَی ظَاہِرِ الآیَۃِ فِی الرُّخْصَۃِ فِی السَّفَرِ وَأَرَادَ بِقَوْلِہِ : (رَغِبُوا عَنْ ہَدْیِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَأَصْحَابِہِ) أَیْ فِی قَبُولِ الرُّخْصَۃِ لاَ فِی تَقْدِیرِ السَّفَرِ الَّذِی أَفْطَرَ فِیہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداؤد]
(٨١٤٤) منصور کلبی (رض) فرماتے ہیں کہ دحیہ بن خلیفہ دمشق میں اپنی بستی سے نکلے اور یہ تین میل دور ہے۔ یہ سفر رمضان میں تھا۔ پھر انھوں نے افطار کیا اور لوگوں نے بھی افطار کیا اور کچھ نے اسے ناپسند کیا ۔ جب وہ اپنی بستی کی طرف پلٹے تو کہا : اللہ کی قسم ! میں نے ایسا معاملہ دیکھا ہے جس کا مجھے خیال نہیں تھا ، میں نے دیکھا ہے کہ قوم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راستے بےرغبتی کر رہی ہے اور صحابہ کے طریقے سے بھی ۔ یہ بات انھوں نے ان کے لیے کہی جنہوں نے روزہ رکھا تھا۔ تب انھوں نے کہا : اے اللہ ! مجھے اپنے پاس بلالے۔ لیث کہتے ہیں : جس پر لوگوں کا اجماع ہے وہ یہ ہے کہ قصر نہ کریں، نہ نماز اور نہ ہی روزہ افطار کریں۔ مگر چار برد کے سفر پر۔ برد میں بارہ میل ہوتے ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں : جو روایت وحیہ کلبی سے ہے۔ اگر وہ صحیح ہے تو گویا وہ ظاہر آیت کی طرف گئے ہیں۔ جس کی سفر میں اجازت ہے۔ اس قول سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کی طرف رغبت ہے ، یعنی رخصت کو قبول کرنے میں نہ یہ کہ اس سفر کی وجہ سے جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے افطار کیا۔