(۸۱۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِیُّ وَأَبُو صَادِقٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَطَّارُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمُرَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِی مُرَاوِحٍ عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِیِّ أَنَّہُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : إِنِّی أَجِدُ بِی قُوَّۃً عَلَی الصِّیَامِ فِی السَّفَرِ فَہَلْ عَلَیَّ جُنَاحٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((ہِیَ رُخْصَۃٌ مِنَ اللَّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی فَمَنْ أَخَذَ بِہَا فَحَسَنٌ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَصُومَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ))۔ [صحیح۔ ھذا لفظ المسلم]
(٨١٥٨) حمزہ بن عمرواسلمی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : میں سفر میں روزہ رکھنے کی قوت رکھتا ہوں مجھ پر کوئی گناہ ہے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے۔ جس نے اسے قبول کیا اس نے اچھا کیا اور جس نے روزہ رکھنا پسند کیا اس پر کوئی گناہ نہیں۔