(۸۱۶۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنْ حُمَیْدٍ قَالَ : خَرَجْتُ فَصُمْتُ فَقَالُوا لِی : أَعِدْ فَقُلْتُ : إِنَّ أَنَسًا أَخْبَرَنِی أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- کَانُوا یُسَافِرُونَ فَلاَ یَعِیبُ الصَّائِمُ عَلَی الْمُفْطِرِ ، وَلاَ الْمُفْطِرُ عَلَی الصَّائِمِ۔ فَلَقِیْتُ ابْنَ أَبِی مُلَیْکَۃَ فَأَخْبَرَنِی عَنْ عَائِشَۃَ مِثْلَہُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ ھذا لفظ مسلم]
(٨١٦٣) ابو خالد احمر حمید سے نقل فرماتے ہیں کہ میں روزے کی حالت میں نکلاتو انھوں نے مجھے کہا : تو لوٹ، میں نے کہا : انس (رض) نے مجھے خبر دی کہ اصحاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر کیا کرتے تھے اور کوئی صائم مفطر پر عیب نہیں لگاتا تھا اور نہ صائم پر میں ابن ابو ملیکہ سے ملا تو انھوں نے مجھے سیدہ عائشہ (رض) کے حوالے سے ایسی حدیث سنائی۔