(۸۱۶۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الْمُعَاذِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الْجُرَیْرِیِّ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ : کُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی رَمَضَانَ فَمِنَّا الصَّائِمُ ، وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَلاَ یَجِدُ الصَّائِمُ عَلَی الْمُفْطِرِ وَلاَ الْمُفْطِرُ عَلَی الصَّائِمِ۔ یَرَوْنَ أَنَّ مَنْ وَجَدَ قُوَّۃً فَصَامَ فَإِنَّ ذَلِکَ حَسَنٌ ، وَیَرَوْنَ أَنَّ مَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَأَفْطَرَ فَإِنَّ ذَلِکَ حَسَنٌ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ النَّاقِدِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
(٨١٦٨) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رمضان میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ پر جاتے تو ہم میں سے روزے دار بھی ہوتے اور بےروزہ بھی۔ مگر کوئی صائم مفطر پر اور مفطر صائم پر عیب نہ لگاتا ۔ وہ خیال کرتے کہ جس میں قوت ہے وہ روزہ رکھتا ہے تو اس نے کہا : اچھا کیا اور جو کمزوری محسوس کرتا ہے وہ افطار کرتا ہے تو فرمایا : اس نے بھی اچھا ہی کیا۔