hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 8208

.

سنن البيهقي

8208
Sunan Al Bayhaqi
(۸۲۰۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی حَرْمَلَۃَ عَنْ کُرَیْبٍ : أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْہُ إِلَی مُعَاوِیَۃَ بِالشَّامِ قَالَ فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَیْتُ حَاجَتُہَا فَاسْتُہِلَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ فَرَأَیْتُ الْہِلاَلَ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فِی آخِرِ الشَّہْرِ فَسَأَلَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الْہِلاَلَ فَقَالَ : مَتَی رَأَیْتُمُ الْہِلاَلَ قُلْتُ : رَأَیْنَاہُ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ قَالَ أَنْتَ رَأَیْتَہُ قُلْتُ : نَعَمْ وَرَئَ اہُ النَّاسُ وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِیَۃُ فَقَالَ : لَکِنَّا رَأَیْنَاہُ لَیْلَۃَ السَّبْتِ فَلاَ نَزَالُ نَصُومُ حَتَّی نُکْمِلَ ثَلاَثِینَ أَوْ نَرَاہُ فَقُلْتُ : أَوَلاَ نَکْتَفِی بِرُؤْیَۃِ مُعَاوِیَۃَ قَالَ : لاَ ہَکَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی ۔ وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَرَادَ مَا رُوِیَ عَنْہُ فِی قِصَّۃٍ أُخْرَی : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَمَدَّہُ لِرُؤْیَتِہِ أَوْ تُکْمَلُ الْعِدَّۃُ ، وَلَمْ یَثْبُتْ عِنْدَہُ رُؤْیَتُہُ بِبَلَدٍ آخَرَ بِشَہَادَۃِ رَجُلَیْنِ حَتَّی تُکْمَلَ الْعِدَّۃُ عَلَی رُؤْیَتِہِ لاِنْفِرِادِ کُرَیْبٍ بِہَذَا الْخَبَرِ فَلَمْ یَقْبَلْہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
(٨٢٠٥) کر یب (رض) فرماتے ہیں کہ ام الفضل بنت حارث نے انھیں شام میں معاویہ (رض) کے پاس بھیجا، فرماتے ہیں : میں شام آیا۔ اپنی حاجت پوری کی کہ رمضان آگیا اور میں شام میں ہی تھا ۔ میں نے جمعہ کی رات کو چانددیکھا ، پھر میں مہینے کے آخر میں مدینے آیا تو مجھ سے عبداللہ بن عباس (رض) نے چاند کے بارے میں پوچھا کہ تم نے چاند دیکھا ؟ میں نے کہا : ہاں اور لوگوں نے بھی دیکھا ۔ انھوں نے روزہ رکھا اور معاویہ (رض) نے بھی روزہ رکھا تو انھوں نے کہا : مگر ہم نے تو ہفتے کو دیکھا ہے، ہم توا بھی روزے رکھتے رہیں گے حتیٰ کہ تیس دن پورے کریں یا چاند دیکھ لیں، میں نے کہا : کیا آپ کو معاویہ کا دیکھنا کافی نہیں ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایسے ہی حکم دیا ہے۔
ہوسکتا ہے کہ ابن عباس (رض) کا ارادہ وہ ہو جو دوسرے قصے میں بیان کیا گیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے دیکھنے تک مدت کو بڑھا دیایا پھر تعداد کو مکمل کرنے کے لیے ان کے نزدیک دوسرے ملک کی گواہی ثابت نہیں دو کی گواہی کے ساتھ حتیٰ کہ تعداد مکمل ہوجائے دیکھنے سے بھی اور اس خبر میں ایک ہیں اسی لیے قبول نہیں کیا۔