(۸۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئُ سَنَۃَ ثَلاَثٍ وَأَرْبَعِینَ وَثَلاَثَمِائَۃٍ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَعَفَّانُ وَعُبَیْدُ اللَّہِ وَاللَّفْظُ لِعَفَّانَ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ أَنَّ عَلِیًّا قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ -قَالَ : ((مَنْ تَرَکَ مَوْضِعَ شَعْرَۃٍ مِنْ جَسَدِہِ مِنْ جَنَابَۃٍ لَمْ یُصِبْہَا الْمَائُ فُعِلَ بِہِ کَذَا وَکَذَا مِنَ النَّارِ))۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۴۹]
قَالَ عَلِیٌّ : فَمِنْ ثَمَّ عَادَیْتُ رَأْسِی۔ قَالَ عُبَیْدُ اللَّہِ فِی حَدِیثِہِ : وَکَانَ یَجُزُّ شَعَرَہُ۔
(٨٢٦) سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : ” جسشخص نے بال برابر جنابت کی جگہ چھوڑ دی جس کو پانی نہ لگا تو اس کے ساتھ آگ میں ایسے ایسے کیا جائے گا۔ “
سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں کہ اسی وجہ سے میں نے اپنے سر سے دشمنی مول لے لی ہے۔ عبید اللہ اپنی حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی (رض) اپنے بالوں کو جڑ سے کاٹ دیتے تھے۔