(۸۲۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ بُکَیْرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : ہَشِشْتُ یَوْمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ : صَنَعْتُ الْیَوْمَ أَمْرًا عَظِیمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَرَأَیْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِالْمَائِ وَأَنْتَ صَائِمٌ؟))۔ فَقُلْتُ : لاَ بَأْسَ بِذَلِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((فَفِیمَ؟))۔
[صحیح۔ معنیٰ تخریجہ]
(٨٢٥٥) جابر بن عبداللہ (رض) ، عمر بن خطاب (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں نے بو سہ لے لیا اور میں روزے سے تھا۔ پھر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میں نے کہا : آج میں نے بہت بڑا کام کیا ہو کہ میں نے روزے کی حالت میں بوسہ دیا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرا کیا خیال ہے کہ اگر تو روزے کی حالت میں پانی سے کلی کرے ۔ میں نے کہا : کوئی حرج نہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کس میں ؟