(۸۳۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُاللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالْعَزِیزِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ الْمُثَنَّی عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : أَوَّلُ مَا کُرِہَتِ الْحِجَامَۃُ لِلصَّائِمِ أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ احْتَجَمَ وَہُوَ صَائِمٌ فَمَرَّ بِہِ النَّبِیُّ -ﷺ- فَقَالَ : أَفْطَرَ ہَذَانِ۔ ثُمَّ رَخَّصَ النَّبِیُّ -ﷺ- بَعْدُ فِی الْحِجَامَۃِ لِلصَّائِمِ وَکَانَ أَنَسٌ یَحْتَجِمُ وَہُوَ صَائِمٌ۔ قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِیُّ: کُلُّہُمْ ثِقَاتٌ وَلاَ أَعْلَمْ لَہُ عِلَّۃً۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَحَدِیثُ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ بِلَفْظِ التَّرْخِیصِ یَدُلُّ عَلَی ہَذَا فَإِنَّ الأَغْلَبَ أَنَّ التَّرْخِیصَ یَکُونُ بَعْدَ النَّہْیِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ دارقطنی]
(٨٣٠٢) انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلا شخص جس سے تنگی کو ناپسند کیا گیا وہ جعفر بن ابی طالب (رض) ہیں کہ انھوں نے روزے کی حالت میں سنگی لگوائی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پاس سے گزرہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان دونوں نے افطار کرلیا۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رخصت دے دی روزے دار کو سنگی لگوانے کی اور انس (رض) روزے کی حالت میں سنگی لگواتے تھے۔