(۸۳۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الشَّیْبَانِیُّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہ السَّعْدِیُّ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عِبَادَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَطَاء ٌ عَنْ أَبِی صَالِحٍ الزَّیَّاتِ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَہُ إِلاَّ الصِّیَامَ فَإِنَّہُ لِی وَأَنَا أَجْزِی بِہِ۔ وَالصَّوْمُ جُنَّۃٌ فَإِذَا کَانَ یَوْمُ صَوْمِ أَحَدِکُمْ فَلاَ یَرْفُثْ یَوْمَئِذٍ ، وَلاَ یَسْخَبْ ، فَإِنْ سَابَّہُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَہُ فَلْیَقُلْ : إِنِّی امْرُؤٌ صَائِمٌ۔ وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْیَبُ عِنْدَ اللَّہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ رِیحِ الْمِسْکِ ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ یَفْرَحُ بِہِمَا إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِہِ ، وَإِذَا لَقِیَ رَبَّہُ فَرِحَ بِصَوْمِہِ))۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامِ بْنِ یُوسُفَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔
وَفِی حَدِیثِ ہِشَامٍ فِی أَوَّلِ الْحَدِیثِ قَالَ اللَّہُ : ((کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَہُ))۔ [صحیح۔ قبلہ]
(٨٣١٠) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بنی آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزادونگا اور روزہ ڈھال ہے۔ سو جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ اس دن بیہودگی نہ کرے اور نہ ہی گالی گلوچ کرے۔ اگر کوئی اسے گالی دے یا لڑائی کرے تو اسے کہہ دے کہ میں صائم ہوں۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے کہ روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن کستوری سے بھی پاکیزہ ہوگی اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جب افطار کرتا ہے تب خوش ہوتا ہے اور اپنے رب سے ملے گا روزے کی وجہ سے خوش ہوگا۔
(ہشام کی حدیث جو پہلی ہے اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے۔ )