(۸۳۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ {وَعَلَی الَّذِینِ یُطِیقُونَہُ} یَعْنِی یَتَکَلَّفُونَہُ وَلاَ یَسْتَطِیعُونَہُ {طَعَامُ مِسْکِینٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا} فَأَطْعَمَ مِسْکِینًا آخَرَ {فَہُوَ خَیْرٌ لَہُ} وَلَیْسَتْ مَنْسُوخَۃً قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَلَمْ یُرَخَّصْ فِی ہَذَا إِلاَّ لِلشَّیْخِ الْکَبِیرِ الَّذِی لاَ یُطِیقُ الصِّیَامَ وَالْمَرِیضِ الَّذِی عَلِمَ أَنَّہُ لاَ یَشْفَی۔ [حسن۔ اخرجہ الحاکم]
(٨٣١٦) عطاء ابن عباس (رض) سے بیان کرتے ہیں اس قول کے بارے میں { وَعَلَی الَّذِینِ یُطِیقُونَہُ } کہ وہ مشقت محسوس کرتے ہیں استطاعت نہیں رکھتے { طَعَامُ مِسْکِینٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا } تو دوسرے مسکین کو کھلایا { فَہُوَ خَیْرٌ لَہُ } یہ منسوخ نہیں ہے۔ ابن عباس (رض) نے کہا : اس میں نہیں رخصت دی گئی مگر اس شیخ کیبر کو جو روزے کی طاقت نہیں رکھتا اور اس مریض کو جو جانتا ہے کہ شفایاب نہیں ہوگا۔