(۸۳۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : زَیْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی ہَاشِمٍ الْعَلَوِیُّ وَأَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ حُشَیْشٍ التَّمِیمِیُّ الْمُقْرِئُ بِالْکُوفَۃِ قَالَ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا وَکِیعٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ یُضَاعَفُ الْحَسَنَۃُ عَشْرُ أَمْثَالِہَا إِلَی سَبْعِمِائَۃِ ضِعْفٍ۔ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ : إِلاَّ الصَّوْمَ فَإِنَّہُ لِی وَأَنَا أَجْزِی بِہِ ، یَدَعُ طَعَامَہُ وَشَہْوَتَہُ مِنْ أَجْلِی ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَۃٌ عِنْدَ فِطْرِہِ ، وَفَرْحَۃٌ عِنْدَ لِقَائِ رَبِّہِ ، وَلَخُلُوفُ فِیہِ أَطْیَبُ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ رِیحِ الْمِسْکِ ، الصَّوْمُ جُنَّۃٌ الصَّوْمُ جُنَّۃٌ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الأَشَجِّ عَنْ وَکِیعٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
(٨٣٣٢) ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابن آدم کے ہر عمل کو بڑھایا جاتا ہے۔ ایک نیکی کو دس گنا سے سات سو گنا تک ۔ سوائے روزے کے بیشک وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی اجزا دونگا کہ میری وجہ سے اپنی خواہش اور کھانے پینے کو چھوڑتا ہے۔ روزے دار کے لیے دو شادمانیاں ہیں ایک شادمانی افطار کے وقت اور دوسری رب کی ملاقات کے وقت ہوگی اور روزے دار کی منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری سے بھی اطیب و عمدہ ہے اور روزہ ڈھال ہے روزہ ڈھال ہے۔