(۸۳۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ وَعَبْدُ الْمَجِیدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی رَوَّادٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یُفْطِرَ الإِنْسَانُ فِی صِیَامِ التَّطَوُّعِ۔
وَیَضْرِبُ لِذَلِکَ أَمْثَالاً رَجُلٌ طَافَ سَبْعًا وَلَمْ یُوفِہِ فَلَہُ أَجْرُ مَا احْتَسَبَ ، أَوْ صَلَّی رَکْعَۃً وَلَمْ یُصَلِّ أُخْرَی فَلَہُ أَجْرُ مَا احْتَسَبَ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق]
(٨٣٥٢) عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس (رض) کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے اس میں کہ آدمی نفلی روزہ افطار کرے اور اس کی مثال بیان کرتے تھے کہ ایک آدمی نے سات چکر لگائے مگر اسے پورا نہیں کیا تو اس کے لیے اجر و ہی ہے جو اس نے عمل کیا ایک رکعت پڑھی اور دوسری نہ پڑھی تو اس کے لیے اجر ان کے مطابق ہوگا۔