(۸۳۷۰) أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی حَیْوَۃُ وَعُمَرُ بْنُ مَالِکٍ عَنِ ابْنِ الْہَادِ قَالَ حَدَّثَنِی زُمَیْلٌ مَوْلَی عُرْوَۃَ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ : أُہْدِیَ لِی وَلِحَفْصَۃَ طَعَامٌ وَکُنَّا صَائِمَتَیْنِ فَقَالَتْ إِحْدَاہُمَا لِصَاحِبَتِہَا : ہَلْ لَکِ أَنْ تُفْطِرِی؟ قَالَتْ : نَعَمْ فَأَفْطَرَتَا ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتَا لَہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا أُہْدِیَ لَنَا ہَدِیَّۃٌ فَاشْتَہَیْنَاہُ فَأَفْطَرْنَا فَقَالَ : ((لاَ عَلَیْکُمَا صُومَا یَوْمًا آخَرَ مَکَانَہُ))۔
أَقَامَ إِسْنَادَہُ جَمَاعَۃٌ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَقَالَ بَعْضُہُمْ عَنْ أَبِی زُمَیْلٍ وَلَم یَذْکُرْ بَعْضُہُمْ عُرْوَۃَ فِی إِسْنَادِہِ۔
[ضعیف۔ اخرجہ ابوداؤد]
(٨٣٧٠) عروہ بن زبیر (رض) سیدہ عائشہ (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا کہ مجھے اور حفصہ کو کھانے کا تحفہ دیا گیا اور ہم روزے سے تھیں تو ان میں سے ایک نے اپنی سہیلی سے کہا : کیا تو افطار کرے گی ؟ اس نے کہا : ہاں تو ان دونوں نے افطار کرلیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس داخل ہوئے تو انھوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہمیں ھدیہ دیا گیا۔ ہم نے اسے بہت پسند کیا اور ہم نے روزہ افطار کرلیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں تم پر روزہ اس دن کے عوض۔