(۸۴۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ الرَّبِیعِ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ حُمَیْدٍ قَالَ قَالَ مُعَاوِیَۃُ عَلَی مِنْبَرِ الْمَدِینَۃِ : أَیْنَ عُلَمَاؤُکُمْ یَا أَہْلَ الْمَدِینَۃِ؟ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَنْہَی عَنْ مِثْلِ ہَذِہِ۔ وَأَخْرَجَ قُصَّۃً مِنْ کُبَّۃٍ مِنْ کُمِّہِ مِنْ شَعَرٍ وَیَقُولُ : إِنَّمَا ہَلَکَتْ بَنُو إِسْرَائِیلَ حَیْثُ اتَّخَذَتْ نِسَاؤُہُمْ مِثْلَ ہَذَا۔ أَیْنَ عُلَمَاؤُکُمْ یَا أَہْلَ الْمَدِینَۃِ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فِی ہَذَا الْیَوْمِ یَوْمِ عَاشُورَائَ یَعْنِی یَقُولُ : ((إِنِّی صَائِمٌ فَمَنْ شَائَ مِنْکُمْ أَنْ یَصُومَ فَلْیَصُمْ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ انظرقبلہ]
(٨٤١٧) حمید (رض) بیان کرتے ہیں کہ امیر معاویہ نے مدینہ کے منبر پر کہا : اے اہل مدینہ ! تمہارے علماء کہاں ہیں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے منع کیا کرتے تھے۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا اس دن کے بارے میں (یوم عاشورہ) ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : میں صائم ہوں تم میں سے جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے افطار کرے۔