(۸۴۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ سَعِیدٍ الْجُرَیْرِیِّ عَنْ أَبِی السَّلِیلِ عَنْ مُجِیبَۃَ الْبَاہِلِیَّۃِ عَنْ أَبِیہَا أَوْ عَمِّہَا : أَنَّہُ أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ انْطَلَقَ فَعَادَ إِلَیْہِ بَعْدَ سَنَۃٍ۔
وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی مُوسَی فَأَتَاہُ بَعْدَ سَنَۃٍ وَقَدْ تَغَیَّرَتْ حَالُہُ وَہَیْئَتُہُ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَمَا تَعْرِفُنِی؟ قَالَ : ((وَمَنْ أَنْتَ؟))۔ قَالَ : أَنَا الْبَاہِلِیُّ الَّذِی جِئْتُکَ عَامَ أَوَّلٍ قَالَ : ((فَمَا غَیَّرَکَ وَقَدْ کُنْتَ حَسَنَ الْہَیْئَۃِ؟))۔ قَالَ : مَا أَکَلْتُ طَعَامًا مُنْذُ فَارَقْتُکَ إِلاَّ بِلَیْلٍ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((وَلِمَ عَذَّبْتَ نَفْسَکَ؟ صُمْ شَہْرَ الصَّبْرِ ، وَمِنْ کُلِّ شَہْرٍ یَوْمًا))۔ قَالَ : زِدْنِی فَإِنَّ بِی قُوَّۃً قَالَ : ((صُمْ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ یَوْمَیْنِ))۔ قَالَ : زِدْنِی فَإِنَّ بِی قُوَّۃً قَالَ : ((صُمْ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ))۔ زَادَ عَبْدُ الْوَاحِدِ : مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ۔ قَالَ : زِدْنِی فَإِنَّ بِی قُوَّۃً قَالَ : صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُکْ ۔ یَقُولُہَا ثَلاَثًا۔ وَفِی رِوَایَۃِ مُوسَی قَالَ : زِدْنِی قَالَ : ((صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُکْ۔ صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُکْ۔ صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُکْ))۔ وَقَالَ بِأَصَابِعِہِ الثَّلاَثِ فَضَمَّہَا ، ثُمَّ أَرْسَلَہَا۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداؤد]
(٨٤٢٦) مجید باھلیہ اپنے باپ سے وہ اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے پھر وہ چل دیے پھر اس کی طرف لوٹے۔ ابوموسیٰ کی ایک روایت میں ہے کہ وہ سال کے بعد آئے ۔ حالت و کیفیت تبدیل ہوچکی تھی ۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے جانتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو کون ہے ؟ اس نے کہا : میں وہ باھلی ہوں جو ایک سال پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے کس نے تبدیل کردیا۔ تیری تو بہت اچھی ہیت تھی۔ انھوں نے کہا : جب سے میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑا رات کے علاوہ کبھی کھانا نہیں کھایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے اپنے آپ کو عذاب کیوں دیا تو صبر کے مہینے کے روزے رکھ اور ہر ماہ ایک روزہ ۔ اس نے کہا : میرے لیے زیادہ کرو۔ میں طاقت رکھتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر مہینے دوروزے رکھ۔ اس نے کہا : اور اضافہ کرو میں۔ مزید طاقت رکھتا ہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تو تین دن کے روزے رکھو۔ عبدالواحدنے یہ اضافہ کیا ہے کہ ہر ماہ ۔ اس نے کہا : میرے لیے اضافہ کرو مجھ میں قوت ہے۔ فرمایا : حرمت والے مہینے میں روزہ رکھ اور افطار کر۔ حرمت والے مہینے میں روزے رکھ اور افطار کر۔ حرمت والے مہینے میں روزے رکھ اور افطار کر۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی انگلیوں سے تین بتائے ان کو بند کیا اور کھولا۔