(۸۴۵) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ : سَأَلُوا سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ عَنِ الرَّجُلِ یَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ أَیَکْفِیہِ ذَلِکَ مِنَ الْوُضُوئِ؟ قَالَ : نَعَمْ وَلْیَغْسِلْ قَدَمَیْہِ۔
وَرُوِّینَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ أَنَّہُ قَالَ فِی الَّذِی نَسِیَ الْمَضْمَضَۃَ وَالاِسْتِنْشَاقَ فِی الْجَنَابَۃِ قَالَ : لاَ یُعِیدُ الصَّلاَۃَ۔ [صحیح]
(٨٤٥) یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ انھوں نے سعید بن مسیب سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جو غسل جنابت کرتا ہے کیا اس کو وضو کفایت کر جائے گا ؟ انھوں نے فرمایا : ہاں البتہ وہ اپنے قدم دھولے۔
حسن بصری اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو جنابت میں کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا بھول گیا فرمایا : نماز دوبارہ نہیں لوٹائے گا۔