(۸۴۵۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ مَوْلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ : أَنَّہُ شَہِدَ الْعِیدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَصَلَّی قَبْلَ أَنْ یَخْطُبَ بِلاَ أَذَانٍ وَلاَ إِقَامَۃٍ ، ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی عَنْ صِیَامِ ہَذَیْنِ الْیَوْمَیْنِ۔ أَمَّا أَحَدُہُمَا فَیَوْمُ فِطْرِکُمْ مِنْ صِیَامِکُمْ وَعِیدِکُمْ ، وَأَمَّا الآخَرُ فَیَوْمٌ تَأْکُلُونَ فِیہِ مِنْ نُسُکِکُمْ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
(٨٤٥٧) عبدالرحمن بن عوف (رض) بیان کرتے ہیں کہ وہ عمربن خطاب (رض) کے ساتھ عید میں حاضر ہوئے ۔ انھوں نے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی بغیر اذان و اقامت کے۔ پھر فرمایا : اے لوگو ! بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں منع کیا ہے ان دو دنوں کے روزے سے ان میں سے ایک عیدالفطر کا ہے کہ وہ تمہارے روزوں کے بعد افطار کا دن ہے اور دوسرا وہ دن ہے جس میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو۔