(۸۴۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی کِتَابِ الْمُسْتَدْرَکِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنِی أَبُوبَکْرِ بْنُ أَبِی نَصْرٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْقَاضِی حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ الْہَادِ عَنْ أَبِی مُرَّۃَ مَوْلَی أُمِّ ہَانِئٍ : أَنَّہُ دَخَلَ مَعَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو عَلَی أَبِیہِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَرَّبَ إِلَیْہِمَا طَعَامًا فَقَالَ : کُلْ فَقَالَ : إِنِّی صَائِمٌ فَقَالَ عَمْرٌو : کُلْ فَہَذِہِ الأَیَّامُ الَّتِی کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَأْمُرُنَا بِإِفْطَارِہَا وَیَنْہَانَا عَنْ صِیَامِہَا۔ قَالَ مَالِکٌ : وَہُنَّ أَیَّامُ التَّشْرِیقِ۔[صحیح۔ اخرجہ مالک]
(٨٤٦١) یزید بن ھاد ابی مرۃ (رض) سے بیان کرتے ہیں جو اُم ھانی کے غلام ہیں کہ وہ عبداللہ بن عمرو کے ساتھ عمرو بن عاص پر داخل ہوئے تو انھوں نے کھانا ان کے نزدیک کیا اور کہا کہ کھاؤ۔ انھوں نے کہا : میں صائم ہوں تو عمر (رض) نے کہا : کھاؤ یہ وہ ایام ہیں جن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) افطار کرنے کا حکم دیا کرتے تھے اور ان میں روزہ رکھنے سے منع کیا کرتے تھے ۔ مالک نے کہا : وہ ایام تشریق تھے۔