(۸۴۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ یَزِیدَ حَدَّثَنَا غَیْلاَنُ بْنُ جَرِیرٍ الْمَعْوَلِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِیِّ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ أَنَّ أَعْرَابِیًّا أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ کَیْفَ صَوْمُکَ أَوْ کَیْفَ تَصُومُ؟ قَالَ فَسَکَتَ عَنْہُ النَّبِیُّ -ﷺ- فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ شَیْئًا۔ فَلَمَّا أَنْ سَکَنَ عَنْہُ الْغَضَبُ سَأَلَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَہُ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ کَیْفَ صَومُکَ أَوْ کَیْفَ تَصُومُ؟ أَرَأَیْتَ مَنْ صَامَ الدَّہْرَ کُلَّہُ؟ قَالَ : ((لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ)) أَوْ قَالَ ((مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ))۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ مَنْ صَامَ یَوْمَیْنِ وَأَفْطَرَ یَوْمًا؟ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((وَمَنْ یُطِیقُ ذَلِکَ یَا عُمَرُ لَوَدِدْتُ أَنِّی فَعَلْتُ ذَلِکَ))۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ مَنْ صَامَ یَوْمًا وَأَفْطَرَ یَوْمًا؟ قَالَ : ((ذَاکَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ))۔ فَقَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَرَأَیْتَ مَنْ صَامَ یَوْمَ عَرَفَۃَ؟ قَالَ : ((یُکَفِّرُ السَّنَۃَ وَالسَّنَۃَ الَّتِی قَبْلَہَا))۔ قَالَ : أَرَأَیْتَ مَنْ صَامَ ثَلاَثًا مِنَ الشَّہْرِ؟ قَالَ : ((ذَاکَ صَوْمُ الدَّہْرِ))۔ قَالَ : أَرَأَیْتَ مَنْ صَامَ یَوْمَ عَاشُورَائَ ؟ قَالَ : یُکَفِّرُ السَّنَۃَ ۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ مَنْ صَامَ یَوْمَ الاِثْنَیْنِ؟ قَالَ : ((ذَاکَ یَوْمٌ وُلِدْتُ فِیہِ وَیَوْمٌ أُنْزِلَتْ عَلَیَّ فِیہِ النُّبُوَّۃُ))۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ حَبَّانَ بْنِ ہِلاَلٍ عَنْ أَبَانَ بْنِ یَزِیدَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
(٨٤٧٦) ابو قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا کہ اللہ کے نبی آپ کے روزے کیسے ہیں یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے کس طرح رکھتے ہیں ؟ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے ۔ اسے کوئی جواب نہ دیا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا غصہ تھما تو عمر بن خطاب (رض) نے پوچھا : اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیسے روزے رکھتے ہیں اور اس کے متعلق بتائیے جو پورا سال روزے رکھتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ ایسے روزہ رکھا اور نہ افطار کیا ۔ پھر انھوں نے کہا : اللہ کے رسول ! جس نے دو دن روزہ رکھا اور یک افطار کیا اس کے بارے میں بتائیے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! اس کی طاقت کون رکھتا ہے ؟ میں چاہتا ہوں کہ ایسا کروں۔ انھوں نے کہا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس نے ایک روزہ رکھا اور ایک افطار کیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ داؤد (علیہ السلام) کا روزہ ہے۔ پھر کہا : اللہ کے رسول ! جس نے یوم عرفہ کا روزہ رکھا اس کی خبر دو ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک سال کے گناہ مٹا دے گا اور ایک سال پہلے کے بھی۔ پھر انھوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس کی خبر دیں جس نے ہر ماہ تین روزے رکھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ سال بھر کے روزے ہیں۔ پھر کہا : اس کی خبر دیں جس نے عاشور اء کا روزہ رکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک سال کے گناہ معاف ہوں گے ۔ پھر کہا : اے اللہ کے رسول ! اس کی خبردیں جس نے پیر کا روزہ رکھا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ وہ دن ہے جس میں میں پید ا ہوا اور مجھ پر نبوت نازل کی گئی۔