(۸۵۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ
(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ تَمِیمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَظَلَّکُمْ شَہْرُ رَمَضَانَ بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّہِ مَا مَضَی عَلَی الْمُسْلِمِینَ شَہْرٌ خَیْرٌ لَہُمْ مِنْہُ ، وَلاَ بِالْمُنَافِقِینَ شَہْرٌ شَرٌّ لَہُمْ مِنْہُ بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّہِ۔ إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَکْتُبُ أَجْرَہُ وَنَوَافِلَہُ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَدْخُلَ ، وَیَکْتُبُ وِزْرَہُ وِشَقَائَ ہُ قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ ، وَذَلِکَ أَنَّ الْمُؤْمِنَ یُعِدُّ لَہُ النَّفَقَۃَ لِلْعِبَادَۃِ ، وَأَنَّ الْمُنَافِقَ یُعِدُّ فِیہِ غَفَلاَتِ الْمُسْلِمِینَ وَاتِّبَاعَ عَوْرَاتِہِمْ فَہُوَ غُنْمٌ لِلْمُؤْمِنِ یَغْتَنِمُہُ الْفَاجِرُ))۔ [ضعیف۔ اخرجہ احمد]
(٨٥٠٢) ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم پر رمضان کا مہینہ سایہ فگن ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسمیہ بات کہی کہ مسلمانوں پر اس سے بہتر کوئی مہینہ نہیں گزرا اور نہ ہی منافقین پر کوئی مہینہ جو اس سے زیادہ ان کے لیے برا ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حلفیہ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اس میں داخل ہونے سے پہلے اس کا نوافل کا اجر لکھ لیتا ہے۔ اس کے گناہ اس کی بد بختیاں بھی اس کے داخل ہونے سے پہلے لکھتا ہے۔ وہ اس لیے کہ مومن اس کی عبادت کا اہتمام کرتا ہے اور منافق مسلمانوں کی غفلت کا اہتمام کرتا ہے اور ان کے عیوب کے پیچھے چلتا ہے سو وہ مومن کے لیے غنیمت ہے اور فاجر اسے ضائع کرلیتا ہے۔