(۸۵۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ الأُوَیْسِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِاللَّہِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَیْرِ ، وَکَانَ أَجْوَدَ مَا یَکُونُ فِی رَمَضَانَ حِینَ یَلْقَاہُ جَبْرَیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ ، وَکَانَ جَبْرَیلُ یَلْقَاہُ کُلَّ لَیْلَۃٍ فِی رَمَضَانَ حَتَّی یَنْسَلِخَ یَعْرِضُ عَلَیْہِ النَّبِیُّ -ﷺ- الْقُرْآنَ۔ فَإِذَا لَقِیَہُ جَبْرَیلُ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَجْوَدَ بِالْخَیْرِ مِنَ الرِّیحِ الْمُرْسَلَۃِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
(٨٥١٥) عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور جب رمضان میں جبرائیل (علیہ السلام) سے ملاقات ہوتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہت سخاوت کرنیوالے ہوتے اور جبرائیل (علیہ السلام) آپ کو رمضان کی ہر رات کو ملتے حتیٰ کہ وہ گزرجاتا ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے قرآن سناتے جب جبرائیل امین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت کرنے والے ہوتے۔