(۸۵۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ وَابْنُ مِلْحَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی ہُوَ ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ وَعَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِالرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَتْ : إِنْ کُنْتُ لأَدْخُلُ الْبَیْتَ لِلْحَاجَۃِ وَالْمَرِیضُ فِیہِ فَمَا أَسْأَلُ عَنْہُ إِلاَّ وَأَنَا مَارَّۃٌ ، وَإِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لَیُدْخِلُ عَلَیَّ رَأْسَہُ وَہُوَ فِی الْمَسْجِدِ فَأُرَجِّلُہُ ، وَکَانَ لاَ یَدْخُلُ الْبَیْتَ إِلاَّ لِحَاجَۃٍ إِذَا کَانَ مُعْتَکِفًا۔
وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ بُکَیْرٍ : إِذَا کَانُوا مُعْتَکِفِینَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ جَمِیعًا فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ إِلاَّ أَنَّ الْبُخَارِیَّ لَمْ یُذْکَرْ قَوْلَہَا فِی الْمَرِیضِ۔ [صحیح۔ البخاری]
(٨٥٩٢) زوج النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نہیں داخل ہوتی تھی مگر حاجت کے لیے اور اگر چلتے مریض مل جاتا تو اسے پوچھ لیتی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری طرف اپنا سر داخل کرتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں ہوتے تو میں اس کی کنگھی وغیرہ کرتی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں داخل نہیں ہوتے سوائے حاجت کے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معتکف ہوتے۔