(۸۶۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنَا الْوَلِیدِ یَعْنِی ابْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ رُزَیْقٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَائً الْخُرَاسَانِیَّ عَنْ أَبِی الْغَوْثِ بْنِ الْحُصَیْنِ الْخَثْعَمِیِّ قَالَ قُلْتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أَبِی أَدْرَکَتْہُ فَرِیضَۃُ اللَّہِ فِی الْحَجِّ وَہُوَ شَیْخٌ کَبِیرٌ لاَ یَتَمَالَکُ عَلَی الرَّاحِلَۃِ۔ فَمَا تَرَی أَنْ أَحُجَّ عَنْہُ؟ قَالَ : نَعَمْ حُجَّ عَنْہُ ۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَکَذَلِکَ مَنْ مَاتَ مِنْ أَہْلِینَا وَلَمْ یُوصِ بِحَجٍّ فَیُحَجُّ عَنْہُ؟ قَالَ : ((نَعَمْ وَتُؤْجَرُونَ))۔ قَالَ : وَیُتَصَدَّقُ عَنْہُ وَیُصَامُ عَنْہُ؟ قَالَ : ((نَعَمْ))۔ وَالصَّدَقَۃُ أَفْضَلُ ، وَکَذَلِکَ فِی النُّذُورِ وَالْمَشْیِ إِلَی الْمَسْجِدِ۔ إِسْنَادُہُ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف]
(٨٦٧٣) ابوغوث بن حصین خثعمی فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے والد کو اللہ کے فریضہ حج نے اس حال میں پایا ہے کہ وہ بہت بوڑھے ہیں اور اونٹنی پر سوار نہیں رہ سکتے تو کیا خیال ہے، میں ان کی طرف سے حج کرلوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ان کی طرف سے حج کرو، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اسی طرح ہمارے اہل و عیال میں سے جو بھی فوت ہوجائے جب کہ اس نے حج کی وصیت نہ کی ہو تو بھی اس کی طرف سے حج کیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اور ان کو اجر ملے گا، میں نے کہا : ان کی طرف سے صدقہ کیا جائے اور روزہ رکھا جائے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! اور صدقہ افضل ہے ، اسی طرح نذریں اور مسجد کی طرف چل کر جانا بھی۔