(۸۶۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ الشِّیرَازِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ سِیرِینَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ قَالَتْ : کُنَّا نُنْہَی أَنْ نُحِدَّ عَلَی مَیِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا ، وَلاَ نَکْتَحِلَ وَلاَ نَتَطَیَّبَ وَلاَ نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ ، وَقَدْ رُخِّصَ فِی طُہْرِہَا إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِیضِہَا فِی نُبْذَۃٍ مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَجَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ الزَّہْرَانِیِّ کِلاَہُمَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۰۷]
(٨٦٩) ام عطیہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم کو منع کیا جاتا تھا کہ ہم میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائیں، مگر اپنے خاوند پر چار ماہ اور دس دن ، اس دوراننہ ہم سرمہ لگاتی تھیں اور نہ خوشبو لگاتی تھیں اور نہ رنگا ہوا کپڑا پہنتی تھیں، مگر عام روئی کا لباس اور طہر میں رخصت دی گئی کہ جب کوئی عورت اپنے حیض سے غسل کرتی تو ایک روئی کا ٹکڑا یا ناخن کے برابر خوشبو لگاتی تھی۔