(۸۶۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ أَیُّوبَ بْنِ أَبِی تَمِیمَۃَ وَخَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ سَمِعَ رَجُلاً یَقُولُ : لَبَّیْکَ عَنْ شُبْرُمَۃَ فَقَالَ : ((وَیْلَکَ وَمَا شُبْرُمَۃُ؟)) فَقَالَ أَحَدُہُمَا قَالَ : أَخِی۔ وَقَالَ الآخَرُ : فَذَکَرَ قَرَابَۃً فَقَالَ : ((أَحَجَجْتَ عَنْ نَفْسِکَ؟)) قَالَ : لاَ۔ قَالَ : ((فَاجْعَلْ ہَذِہِ عَنْ نَفْسِکَ ، ثُمَّ احْجُجْ عَنْ شُبْرُمَۃَ))۔ ہَکَذَا رُوِیَ مَوْقُوفًا۔ [ضعیف۔ مصنف ابن ابی شیبہ ۱۳۳۷۰۔ مسند الشافعی ۱۶۷۴]
(٨٦٨٢) ابو قلابہ ابن عباس (رض) سے روایت فرماتے ہیں کہ انھوں نے ایک شخص کو لبیک عن شبرمہ کہتے ہوئے سنا تو کہا : تیرا ستیاناس شبرمہ کیا ہے ؟ کہنے لگا : میرا بھائی یا قریبی ہے تو انھوں نے پوچھا : کیا تو نے اپنی طرف سے حج کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ نہیں تو انھوں نے کہا : تو یہ حج اپنی طرف سے کرو، پھر شبرمہ کی طرف سے کرنا۔