(۸۷۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنِی نَافِعُ بْنُ أَبِی نُعَیْمٍ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : کَانَتِ الْحُدَیْبِیَۃُ سَنَۃَ سِتٍّ بَعْدَ مَقْدَمِ النَّبِیِّ -ﷺ- الْمَدِینَۃَ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ ، وَکَانَتِ الْقَضِیَّۃُ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ سَنَۃَ سَبْعٍ ، وَکَانَ الْفَتْحُ فِی رَمَضَانَ سَنَۃَ ثَمَانٍ ، ثُمَّ خَرَجَ النَّبِیُّ -ﷺ- مِنْ فَوْرِہِ إِلَی حُنَیْنٍ وَالطَّائِفِ ، فَلَمَّا رَجَعَ فِی شَوَّالٍ اعْتَمَرَ مِنَ الْجِعْرَانَۃِ ، ثُمَّ حَجَّ عَتَّابُ بْنُ أَسِیدٍ فَأَقَامَ لِلنَّاسِ الْحَجَّ اسْتَعْمَلَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی الْحَجِّ ، ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَکْرٍ سَنَۃَ تِسْعٍ اسْتَعْمَلَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- ، ثُمَّ حَجَّ النَّبِیُّ -ﷺ- سَنَۃَ عَشْرٍ مِنْ مَقْدَمِہِ الْمَدِینَۃَ وَہِیَ حَجَّۃُ الْوَدَاعِ ۔ وَفِی ہَذَا دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ أَمْرَ الْفَتْحِ وَاسْتِعْمَالَ عَتَّابِ بْنِ أَسِیدٍ ثُمَّ اسْتِعْمَالَ أَبِی بَکْرٍ فِی سَنَۃِ تِسْعٍ ثُمَّ حَجَّہُ سَنَۃَ عَشْرٍ عَلَی مَا قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَہُوَ مَشْہُورٌ فِیمَا بَیْنَ أَہْلِ الْمَغَازِی مَذْکُورٌ فِی الأَحَادِیثِ الْمَوْصُولَۃِ مُفَرَّقًا۔ [حسن۔ التاریخ الصغیر للبخاری ۱/ ۳۳]
(٨٧٠٧) عبداللہ بن عمر (رض) کے آزاد کردہ غلام نافع فرماتے ہیں کہ حدیبیہ کا واقعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ آنے کے چھ سال بعد ذی قعدہ کے مہینے میں پیش آیا ہے اور اس کی قضا ساتویں سال ذی قعدہ میں کی گئی اور فتح مکہ آٹھویں سال رمضان میں ہوا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوراً حنین اور طائف کی طرف گئے۔ جب شوال میں واپس آئے تو جعرانہ سے عمرہ کا حرام باندھا اور عمرہ کیا، پھر عتاب بن اسید (رض) نے لوگوں کو حج پڑھایا۔ انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج پر عامل مقرر کیا تھا، پھر نویں سال ابوبکر (رض) نے حج کروایا، ان کو بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عامل مقرر کیا تھا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ پہنچنے کے دسویں سال حج فرمایا اور یہی حجۃ الوداع تھا۔