(۸۷۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ أَبَا الزُّبَیْرِ أَخْبَرَہُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَقْبَلَتْ مُہِلَّۃً بِعُمْرَۃٍ حَتَّی إِذَا کَانَتْ بِسَرِفَ عَرَکَتْ فَدَخَلَ عَلَیْہَا النَّبِیُّ -ﷺ- فَوَجَدَہَا تَبْکِی۔ فَقَالَ : ((مَا یُبْکِیکِ))۔ قَالَتْ : حِضْتُ وَلَمْ أَحْلِلْ ، وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَیْتِ وَالنَّاسُ یَذْہَبُونَ إِلَی الْحَجِّ الآنَ۔ قَالَ : ((فَإِنَّ ہَذَا أَمْرٌ کَتَبَہُ اللَّہُ عَلَی بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِی ، ثُمَّ أَہِلِّی بِالْحَجِّ))۔ فَفَعَلَتْ وَوَقَفَتِ الْمَوَاقِفَ حَتَّی إِذَا طَہُرَتْ طَافَتْ بِالْکَعْبَۃِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، ثُمَّ قَالَ : قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّکِ وَعُمْرَتِکِ جَمِیعًا ۔ فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَجِدُ فِی نَفْسِی أَنِّی لَمْ أَطُفْ بِالْبَیْتِ حَتَّی حَجَجْتُ۔ قَالَ : ((فَاذْہَبْ بِہَا یَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْہَا مِنَ التَّنْعِیمِ))۔ وَذَلِکَ لَیْلَۃَ الْحَصْبَۃِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنِ اللَّیْثِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَکَانَتْ عُمْرَتِہَا فِی ذِی الْحِجَّۃِ ، ثُمَّ سَأَلَتْہُ أَنْ یُعْمِرَہَا فَأَعْمَرَہَا فِی ذِی الْحِجَّۃِ فَکَانَتْ ہَذِہِ عُمْرَتَانِ فِی شَہْرٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۱۳۔ نسائی ۲۷۶۳]
(٨٧٢٥) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) عمرے کے لیے تلبیہ کہتی ہوئی آئیں حتیٰ کہ جب سرف مقام پر پہنچی تو حائضہ ہوگئیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس گئے تو وہ رو رہی تھیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا تج : ہے کیا بات رلا رہی ہے ؟ کہنے لگیں کہ میں حائضہ ہوگئی ہوں اور ابھی میں حلال بھی نہیں ہوئی اور نہ ہی میں نے بیت اللہ کا طواف کیا ہے اور لوگ اب حج کی طرف جا رہے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ایسا معاملہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے بنات آدم پر مقرر کر رکھا ہے، لہٰذا تو غسل کرلے اور حج کا تلبیہ کہہ تو انھوں نے ایسا ہی کیا اور تمام جگہوں پر ٹھہریں حتیٰ کہ جب وہ پاک ہوئیں تو کعبہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اب تو حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہوگئی ہے تو کہنے لگیں : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے دل میں کچھ بات ہے کہ میں نے حج کرنے سے پہلے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عبدالرحمن ! اس کو لے جا اور تنعیم سے عمرہ کروا اور یہ لیلہ حصبہ کی بات ہے۔ (جس رات آپ وادی محصب میں ٹھہرے تھے)
امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ ان کا پہلا عمرہ ذوالحجہ میں تھا، پھر انھوں نے عمرہ کروانے کا مطالبہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں عمرہ ذوالحجہ ہی میں عمرہ کروایا تو یہ دو عمرے ایک ہی ماہ میں تھے۔