(۸۷۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ الْجُرَیْرِیُّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ : إِنِّی لأُحَدِّثُکَ الْحَدِیثَ لَعَلَّ اللَّہَ تَعَالَی یَنْفَعُکَ بِہِ بَعْدَ الْیَوْمِ وَاعْلَمْ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہُ -ﷺ- قَدْ أَعْمَرَ طَائِفَۃً مِنْ أَہْلِہِ فِی عَشْرِ ذِی الْحِجَّۃِ وَلَمْ یَنْزِلْ قُرْآنٌ یَنْسَخُہُ۔ رَأَی رَجُلٌ بَعْدُ مَا شَائَ أَنْ یَرَی۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الْجُرَیْرِیِّ وَزَادَ وَلَمْ یَنْہَ عَنْہُ حَتَّی مَضَی لِوَجْہِہِ۔
[صحیح مسلم ۱۲۲۶۔ ابن ماجہ ۲۹۷۸]
(٨٧٣١) مطرف کہتے ہیں کہ عمران بن حصین (رض) نے فرمایا کہ میں تجھے ایک حدیث سناتا ہوں، شاید کہ اللہ تعالیٰ اس دن کے بعد تجھے اس حدیث سے فائدہ پہنچائے اور جان لے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے بعض اہل کو عشرہ ذوالحجہ میں عمرہ کروایا اور اس کو منسوخ کرنے کے لیے قرآن نازل نہیں ہوا، اب جس کی مرضی جو رائے قائم کرلے۔