(۸۷۳۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ أَبُو سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنِی ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : کَانُوا یَرَوْنَ أَنَّ الْعُمْرَۃَ فِی أَشْہُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ فِی الأَرْضِ یَقُولُونَ : إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ وَعَفَا الأَثَرْ وَانْسَلَخَ صَفَرْ حَلَّتِ الْعُمْرَۃُ لِمَنِ اعْتَمَرْ۔ وَکَانُوا یُسَمُّونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرًا ، فَقَدِمَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَأَصْحَابُہُ لِصُبْحِ رَابِعَۃٍ مُہِلِّینَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَہُمُ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ یَجْعَلُوہَا عُمْرَۃً فَتَعَاظَمَ ذَلِکَ عِنْدَہُمْ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیُّ الْحِلِّ؟ قَالَ : ((الْحِلُّ کُلُّہُ))۔ یَعْنِی یُحِلُّونَ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ وُہَیْبٍ وَبَیَّنَ فِی حَدِیثِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہُ إِنَّمَا أَمَرَ بِذَلِکَ مَنْ لَمْ یَکُنْ سَاقَ الْہَدْیَ وَذَلِکَ یَرِدُ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔
[صحیح۔ بخاری ۱۴۸۹۔ مسلم ۱۲۴۰]
(٨٧٣٣) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اہل جاہلیت حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کو روئے ارض پر بہت بڑا گناہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ جب اونٹوں کی پشت کے زخم صحیح ہوجائیں اور نشانات مٹ جائیں اور صفر کا مہینہ ختم ہوجائے تو پھر عمرہ کرنے والے کے لیے عمرہ حلال ہوگا۔ وہ محرم کو صفر کہتے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ (رض) ذوالحجہ کی چار تاریخ کو حج کا تلبیہ کہتے ہوئے پہنچے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حکم دیا کہ اس کو عمرہ بنالیں ، یہ بات ان پر گراں گزری۔ انھوں نے کہا کہ عمرہ کے بعد کیسے حلال ہوں گے ؟ تو آپ نے فرمایا : ہر طرح سے حلال یعنی ہر چیز ان کے لیے جو احرام کی وجہ سے ممنوع تھی جائز ہوگی۔